ملفوظات (جلد 5) — Page 78
ملفوظات حضرت مسیح موعود تو پھر پتا لگ جاتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔ ۷۸ اس پر مولانا مولوی محمد احسن جلد پنجم نماز اور قرآن شریف کا ترجمہ جاننا ضروری ہے صاحب نے فرمایا کہ لا تقربوا الصَّلوةَ وَانْتُمْ سُكْرَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء:۴۴) سے ثابت ہے کہ انسان کو اپنے قول کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ساری عمر میں تَعْلَمُوا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔ ایک عورت کا ذکر کرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے مزگی کی ضرورت پوچھا کہ درود میں جو صل علی محمد آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں ۔ ۔ خاوند نے کہا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ میں ساری عمر بیگا نہ مرد کا نام لیتی رہی ( یہ حالت آج کل اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور پھر اس پر کہا جاتا ہے کہ ایک مزگی نفس انسان کی ضرورت نہیں ہے ) قرآن کا صرف تر فرمایا۔ ہم ہرگز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کا ترجمہ کافی ہے کہ نہیں صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔ اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔ ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھا گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔ صدقہ میں رد بلا ملحوظ ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس صدقہ اور ہدیہ میں فرق کے عملدرآمد میں انسان اللہ تعالی کو صدق صفا دکھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہد یہ ہدایت سے نکلا ہو کہ آپس میں محبت بڑھے۔