ملفوظات (جلد 5) — Page 77
ملفوظات حضرت مسیح موعود 44 جلد پنجم نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔ اس کی شکایت حضرت علی کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا آرعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : ۱۰، ۱۱) یعنی تو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔ نماز جو رہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہو سکتا ہاں روزہ کا ہو سکتا ہے۔ اور جو شخص عمداً سال بھر اس لیے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضا عمری والے دن ادا کرلوں گا وہ تو گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لیے حرج نہیں۔ لے ہم تو اس معاملہ میں حضرت علی ہی کا جواب دیتے ہیں۔ سوال ہوا کہ نماز کے بعد دعا کرنی یہ سنت اسلام آئی ہے یا نہیں؟ نماز کے بعد دعا فرمایا۔ ہم انکار نہیں کرتے ۔ آنحضرت نے دعا مانگی ہوگی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کر کے گلے سے اتارتے ہیں ۔ پھر دعاؤں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دو میل تک نکل جاوے۔ بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔ خشوع خضوع اصل جز و تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں ۔ اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔ انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔ جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنتِ صحیحہ کیسے سنت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق معلوم ہو؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف ، احادیث اور ایک قوم کے تقوی طہارت اور سنت کو جب آپس میں ملا یا جاوے ل الحکم سے۔ اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔ کیوں منع کرتے ہو۔ آخر دعا ہی کرتا ہے۔ ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔ پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲)