ملفوظات (جلد 5) — Page 79
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۹ جلد پنجم دعا کا اثر ثابت ہے یا ایک روایہ روایت میں بعد وفات میت کو کیا ھے پہنچتی ہے ہے کہ اگر میت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔ سے ایک شخص نے عرض کی کہ حضور یہ جو ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم :۴۰) فرمایا کہ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا کی بجائے اهْدِنِی ہوتا ۔ ( مجلس قبل از عشاء ) ایک شخص کی موت کا ذکر ہوا۔ اس کا باعث بیان ہوا کہ فلاں مرض اور اسباب تھے۔ پر نظر فرمایا کہ جب انسان یہیں آکر ٹھہر جاوے کہ فلاں باعث موت کا ہے اور اسباب پر آگے نہ چلے تو ایسی باتیں معرفت کی روک ہیں اور اس سے نظر اسباب تک ہی رہتی ہے۔ فرمایا۔ لَوْلَا إِلَّا كُرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ جب طاعون کی آگ بھڑک رہی ہے تو اب کوئی سوچے کہ ایک مفتری کہہ سکتا ہے کہ لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ کیا ممکن نہ تھا کہ وہ خود ہی مر جاوے اور طاعون کا شکار ہو۔ اس وقت قادیان مثلِ مکہ ہے کہ اس کے ارد گرد لوگ ہلاک ہور ہے ہیں اور یہاں خدا کے فضل سے بالکل امن ہے مکہ کی نسبت بھی ہے يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ (العنکبوت: ۶۸ ) کہ لوگ اس کے گردو نواح سے اچک لیے جاویں گے لَوْلا الإِكْرَام سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سر زمین سے راضی نہیں ہے اور مجھے یہ بھی الہام ہوا ہے مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ - قنوت آج کل چونکہ وبا کا زور ہے اس لیے نمازوں میں قنوت پڑھنا چاہیے۔' ه البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۴ ، ۱۱۵