ملفوظات (جلد 5) — Page 76
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۶ جلد پنجم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے ۔ ہندوستان اور یورپ کی دہریت میں فرق ہے۔ یورپ کے دہر یہ اس خدا کے منکر دہریت ہیں جو مصنوعی ہے اور عیسائی لوگ وہاں اس کو دہر یہ کہتے ہیں جو کہ مسیح کو خدا نہ مانے اور اب فسق و فجور نے بھی اثر ڈالا ہے۔ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ سب اثر کفارہ پرستی کا ہے۔ تو اب وہ کیسے مانیں ۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ قضا عمری کیا شے ہے جو کہ لوگ عید الاضحیٰ کے پیشتر جمعہ کو ادا قضا عمری کرتے ہیں۔ فرمایا کہ میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علی الحکم میں زیادہ تفصیل سے یوں لکھا ہے۔ غرض تمام حواس خمسہ سے وحی ہوتی ہے اور ملہم کو قبل از وقت بذریعہ وحی ان باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے۔ مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک دفعہ چند قیدی آنحضرت کے پاس پابجولان آئے ان قیدیوں نے خیال کیا کہ آنحضرت ہمیں اس حال میں دیکھ کر بہت خوش ہوں ۔ میں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ خیال تمہارا غلط ہے ۔ جس وقت تم لوگ گھوڑوں پر سوار اور ناز و نعمت میں بارام چلتے تھے میں تو اس وقت تمہیں پابہ زنجیر دیکھ رہا تھا۔ اب مجھے تمہارے دیکھنے کی کیا خوشی ہے؟ پھر مطلب یہ ہے کہ الہام کے ساتھ عموماً کشوف بھی ہوا کرتے ہیں۔ اشتہار تبلیغ میں میں نے اپنا ایک خواب درج کیا ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے باغ میں سے سیر کر کے نکلا ہوں دیکھا کہ کچھ سوار گھوڑوں پر باغ میں داخل ہوئے۔ میں نے سمجھا کہ یہ اس کو پامال کر دیں گے میں بھی ان کے عقب میں جا داخل ہوا ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سب کہیں نظر نہیں آتے جب وسط باغ میں گیا ہوں تو دیکھا کہ سب کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کئے ہوئے ہیں اور کھال اتاری ہوئی ہے۔ میں نے رقت میں آکر اور رو کر خدا سے دعا کی ہے کہ یا اللہ یہ تیرا ہی کام تھا میں اکیلا ان کا مقابلہ کیا کر سکتا تھا۔ تو فوراً تعبیر بتلائی گئی کہ سر کا کٹنا غرور اور تکبر کا ٹوٹنا ہے۔ ہاتھوں کا کٹنا یعنی انسان اپنے ہاتھوں سے اپنے بچاؤ اور دشمن کے قتل کی مدد لیتا ہے گویا ان کے اسباب امداد کٹ گئے پاؤں سے انسان بھاگ سکتا ہے یعنی اب کوئی صورت مفر نہیں ۔ کھال زینت اور پردہ ہوتا ہے یعنی ان تیرے مخالفوں کی زینت جاتی رہی اور پردہ دری ہو گئی ۔ یہ اب پورا ہو رہا ہے پس ہر جگہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ سے ہی کام چلتا ہے ۔“ 66 الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲)