ملفوظات (جلد 5) — Page 71
ملفوظات حضرت مسیح موعود ال جلد پنجم ( جو ۱۵ را پریل کی ڈائری میں آچکا ہے۔) اور یہ فرمایا۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران: ۳۲) جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اسی طرح خدا جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا۔ آنحضرت کی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام کرتا ہے۔ غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ اسی کا نام نبوت ہے۔ ( مجلس قبل از عشاء ) فرمایا۔ خدا کی معرفت کی راہ بہت باریک اور تنگ ہے۔ اس لیے اس کا معرفت کی راہ مشاہدہ انسان پر مشکل ہے۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسی لیے انسان اس پر مائل ہو جاتا ہے مگر تا ہم ایک حصہ امراض کا انسان کو ایسا لگا ہوا ہے کہ طبیب ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی ۔ بعض دنیا دار اعتراض کرتے کیا دینداری اختیار کرنے سے مصیبت آتی ہے؟ ہیں کہ دینداری اختیار کی تو مصیبت آئی۔ مگر وہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔ دیندار پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ثواب اور معرفت کا موجب ہوتی ہے اور دنیا دار پر جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی لعنت کا موجب ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مصیبت پڑی مگر کیا ہی پیاری مصیبت تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑھتی جاتی ویسے ہی زور سے قرآن نازل ہوتا جاتا۔ وہ دور گو جلدی ختم ہو گیا یعنی صرف حضرت معاویہ تک ہی رہا۔ نا مگر نہ وہ رہے اور نہ یہ ۔ ہاں سعید گروہ کے آثار قیامت تک رہے اور شقی کا نام بھی ندارد۔ کاش کہ ابو جہل کبھی زندہ ہو کر آتا تو دیکھتا کہ جس کو وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتا تھا خدا نے اس کی کیا شان بنائی ہے۔ مشرق اور مغرب تک کہاں کہاں بلاد اسلامیہ پھیلے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صحابہ فوت ہوئے انہوں نے تو وہ ترقیات نہ دیکھیں مگر جنہوں نے حضرت عمرؓ کا زمانہ پایا انہوں نے دیکھ لیں ۔ اگر ابو جہل وغیرہ کو معلوم ہوتا کہ یہ عروج ہوگا تو مثل غلاموں کے آنحضرت کے ساتھ ہو جاتے ۔ ه البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۳، ۱۱۴