ملفوظات (جلد 5) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٧٠ جلد پنجم کوئی انکار نہیں ۔ ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نہ ماننے کا لفظ لا سکتے ہی نہیں کیونکہ انہوں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے نہیں ہیں جنہوں نے دیکھ کر انکار کیا تھا وہ ہلاک ہو چکے موجودہ زمانے کے لوگوں نے آپ کے نشانات دیکھے ہی نہیں تو وہ اس انکار کی وجہ سے ہلاک کیسے ہو سکتے ہیں؟ پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مراد مسیح موعود ہی کے نشانات ہیں جن کے انکار کی وجہ سے عذاب کی تنبیہ ہے اور خدا کا غضب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدائی فیصلہ ہے جس کو رد نہیں کر سکتا ۔ یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعود لو کے انکار کی وجہ سے آئی ہے۔ لے ۱۸ را پریل ۱۹۰۳ء (بوقت سیر ) نو وارد مہمانوں میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ حضور کا دعولٰی فرمایا۔ ہمارا دعوی مسیح موعود کا ہے جس کے کل عیسائی اور مسلمان منتظر ہیں وہ میں ہوں۔ پھر پوچھا کہ اس کے دلائل کیا ہیں؟ فرمایا کہ اب وقت تھوڑا ہے۔ سوال تو انسان چند منٹوں میں کر لیتا ہے مگر بعض اوقات جواب کے لیے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ جب تک ہر ایک پہلو سے نہ سمجھا یا جاوے تو بات سمجھ نہیں آیا کرتی اس لیے آپ کتا بیں دیکھیں یا پھر کافی وقت ہو تو بیان کر دیئے جاویں گے۔ دوسرے صاحب نے سوال کیا کہ خاتم نبوت کی شرح کیا ہے؟ نے سوال کہ ختم خاتم النبیین کی تشریح کے جا اس کے جواب میں حضرت اقدس نے اپنا وہی مذہب بیان کیا الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۳