ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 69

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۹ جلد پنجم رکھا ہے۔ اگر عفو سے اس کی عادت بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اور اگر اصلاح سزا میں ہو تو سزائے دینی چاہیے اور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کر سکے گی ۔ مسیح موعود کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا فرمایا قرآن شریف نے جو فرمایا ہے تُكَلِّمُهُمُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لَا يُوقِنُونَ (النمل: ۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دار و مدار نشانات پر ہوگا اور خدا نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فر مارکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لا يُوقِنُونَ یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروانہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کو یہ سزا ملی ہے۔ ان نشانات سے مراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ور نہ یہ امر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سو سال بعد آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہو گئے اور اگر آیت سے وہی نشانات مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو اب ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا بھی جاوے کہ بتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپ کے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ وہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرما یا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں اور ان کو وہ نہیں مانتے حالانکہ وہ مومن بھی ہیں ۔ اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں ان کو ل البدر سے۔ ”ایک ہی پہلو اختیار کرنا اور حلم اور عفو پر زور دینا اور وقت اور مصلحت کو نہ دیکھنا کس قدر خلاف عقل ہے۔ عقل ہمیں دکھلاتی ہے کہ ہزا ر ہا انسان ہیں جو کہ سزا کے ذریعہ ہدایت یاب ہوتے ہیں۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۳)