ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 68

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد پنجم ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہزاروں انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہی سزا اور چشم نمائی پر منحصر ہوتی ہے۔ لڑکے جو استادوں کے پاس تعلیم پاتے ہیں ان کو بھی کچھ نہ کچھ چیشم نمائی کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ ہمیشہ اور ہر خطا پر عفو ہی کرتے رہیں تو لڑ کا خراب ہو جاتا ہے۔ ایسی تعلیم اب یہ لوگ کرتے ہی کیوں ہیں؟ انہیں تو چاہیے تھا کہ اسے چھپاتے یہ تو زمانہ ہی ایسا تھا کہ اس کی تعلیم کو لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ۔ اگر کوئی انجیل پوچھتا بھی تو کہہ دیتے کہ انجیل فلاں الماری میں بھول گئی ہے اور آج وہاں رہ گئی ہے کل دیں گے اور اس طرح پر روز ٹلاتے رہتے ۔ کیونکہ انجیلی تعلیم موجودہ زمانہ میں اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا جاوے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کبھی کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے اس تعلیم پر عمل کر کے دکھایا ہو۔ کسی پادری اور عیسائی کو جب یہ بات حاصل نہیں تو اور کوئی کیا کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسیح نے بھی انجیل کی تعلیم کے موافق عمل کر کے نہیں دکھایا اور ان کا عمل ثابت نہیں ہے اور بیچارے کسی شمار میں ہیں۔ اگر یہ تعلیم صحیح ہے تو چاہیے تھا کہ عیسائی لوگ اب بھی کرتہ مانگنے والے کو چادر دے دیتے اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیتے مگر ہم کو افسوس سے ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ تکلف اور تصنع سے بھی برائے نام کسی نے اس پر عمل کر کے نہ دکھایا۔ کوئی تو انجیل کی عزت رکھنے والا ہوتا۔ برخلاف اس کے ایسا دیکھا گیا ہے کہ اگر ذراسی بات بھی مشنریوں کے خلاف مزاج ہوئی ہے تو عدالت تک پہنچاتے ہیں اور ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ سزا دلائی جاوے۔ مگر قرآن شریف اس کے مقابلے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔ فرماتا ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ، فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور اس عفو میں اصلاح مد نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو خدا سے اجر ملے گا۔ دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقع کے موافق عفو یا سزا کی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عفو غیر محل نہ ہو۔ ایسا عفو نہ ہو کہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرات اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرے۔ غرض دونوں پہلوؤں کو مد نظر