ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 67

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۷ جلد پنجم انسان کو دیئے؟ اگر صرف ایک عفو اور حلم ہی دیتا باقی قومی سے جب کام لینا ہی گناہ تھا تو وہ عطا کیوں کئے؟ نہیں ایسا نہیں بلکہ انسان کی انسانیت اور اخلاق فاضلہ ہی اسی میں ہیں کہ محل اور موقع کے مطابق اپنے قومی کا بھی اظہار کرے ورنہ اس میں اور حیوانوں میں ما بہ الامتیاز کیا ہوا ؟ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان سے ایک دو مرتبہ عفو اور درگذر کیا جاوے اور نیک سلوک کیا جاوے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طور سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں۔ تو وہ شرارت میں اور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پروانہ کر کے ان کو توڑ دینے کی طرف دوڑتے ہیں۔ اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت شریف الطبع آدمی ہے اور اتفاقاً اس سے ایک غلطی ہو گئی ہے اسے اُٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں تو کیا وہ کام دے سکے گا ؟ نہیں بلکہ اس سے تو عفو کرنا اور درگذر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے مگر ایک شریر کو کہ جس کا بار ہا تجربہ ہو گیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھتا بلکہ اور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے تو اس کو تو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اس کے واسطے مناسب یہی ہے کہ اسے سزادی جاوے۔ اس قانون کے سوا انجیلی تعلیم پر چل کر تو انسانی تمدن کا نظام چل سکتا ہی نہیں بھلا اگر ایسا ہی ان کا مذہب تھا تو پھر عدالتوں کے قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ عدالتوں کے قوانین میں کیوں سزائیں مقرر ہیں؟ کسی مجرم کے واسطے کہیں قانون میں عفو کاحکم نہیں دیا گیا بلکہ ہر جرم کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ انجیلی تعلیم نے صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا ہے۔ اگر ہمیں خدا کی کتاب سے یہ امر نہ معلوم ہوتا کہ یہ مختص الزمان اور مختص المکان تعلیم ہے تو اس کے آسمانی اور الہامی ہونے میں تو ہمیں انکار ہی کرنا پڑتا کیونکہ بھاری بھاری ضرورتوں کے پورا کرنے کی اس کے اندر وسعت نہیں ۔ کیا اگر کسی شریر کو اس کی اصلاح کے لیے سزادی جاوے تو وہ گناہ ہے اور کیا ایک ایسے شخص کو جو بد معاش اور چوری کر کے لوگوں کا مال مار چکا ہے اس کو عین محل پر سزادی جاوے تو یہ برا ہے؟ لے مراد ہے اور بعض“ ۔ (مرتب) الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۶