ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 66

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۶ جلد پنجم لو قبل ازیں گزر چکا ہے ) اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق نہ آتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم، ابراہیم ، نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتی کہ آخر کار جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کہا۔ گو یا اس سے سب اعتراض رفع ہو گئے اور آپ کی اُمت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔ ہے ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء (دربار شام) کالجوں اور مدرسوں کے میں انجیل پڑھانے کے متعلق ذکر انجیل کی تعلیم نا قابل عمل ہے ہوئے ہوئے فرمایا کہ ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ انجیل کو پیش کس خیال سے کرتے ہیں۔ اس کی تعلیم تو انسانی فطرت ہی کے خلاف پڑی ہوئی ہے اور تو اور ایک درخت کی طرح مثال خیال کرو اور اس کی مختلف شاخوں کو انسان کے مختلف قوی ۔ انسان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ مختلف اوقات پر مختلف قومی سے کام کی فطرت میں اس کی پیدائش کے وقت سے ایسا ہی رکھا گیا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کو ایک وقت ایک بجا اور باحل غضب ہو تو اس کی جگہ حلم کرے اور ہمیشہ ایک قوت سے کام لے دوسرے قومی کے ظہور کا موقع ہی نہ آوے۔ اگر ایسا ہی خدا نے کرنا تھا تو اتنے مختلف قومی کیوں لے سہو کتابت ہے غالباً ”نہ زائد ہے۔ (مرتب) البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۳ وو مدیر البدر ا میں لکھا ہے۔ ” دو گریجوایٹ لاہور سے حضرت اقدس کی ملاقات کی اقدس کی ملاقات کو تشریف لائے تھے۔ اُن کی آمد پر عیسویت کے متعلق ذکر چل پڑا۔ اس پر حضرت اقدس نے عیسویت کی تعلیم کے متعلق فرمایا کہ انسان اس کے قومی اور اخلاق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک درخت ہو اور اس کی بہت سی شاخیں ہوں اور سب اسی لیے ہوتی ہیں کہ پھل دیویں۔ ایسے ہی انسان کو جو اخلاق دیئے گئے ہیں اُن کے استعمال کے مختلف موقعے ہوتے ہیں۔ کبھی حلم کی قوت ہوتی ہے مگر وقت ا ہے مگر وقت اس کے استعمال کا نہیں ہوتا ۔ مصلحت اس ن اس سے کام لینے کا تقاضا نہیں کرتی ۔ سے کام لینے تا ایسے ہی غضب کا حال ہے جس قدر قوی انسان لے کر آیا ہے حکمت الہی کا بھی تقاضا ہے کہ وہ اپنے اپنے محل پر استعمال ہوں ورنہ پھر خدا تعالیٰ کا فعل عبث ٹھیرتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۳)