ملفوظات (جلد 5) — Page 65
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد پنجم لطف سے آپ کے بعد ۱۳۰۰ برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھا دیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو۔ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوادیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرت بھی قائم رکھی ۔ سوال ۔ کیا کوئی عورت نبیہ ہو سکتی ہے؟ عورت نبیہ نہیں ہو سکتی فرمایا۔ نہں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ الرجال قوامون علی النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) اور وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً (البقرة : ۲۲۹) عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل میں ہوا کرتی ہیں۔ جب صاحب درجہ اور صاحب مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کر دیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں؟ کے ۱۶ را پریل ۱۹۰۳ء بعد از نماز مغرب حضرت اقدس نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ ۱۵ را پریل کی سیر ایک نیا نکتہ میں درج ہو چکی ہے اس کی تعمیل میں ایک نی بات یہ ذکر فرمائی کہ ہے اس وقت میں اُمت موسوی کی طرح جو مامور اور مجد دین آئے ان کا نام نبی سے رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت میں فرق نہ آوے ( جس کا مفصل ذکر لے البدر میں ہے ۔ محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ نبوت تشریعی جائز نہیں دوسری جائز ہے۔ مگر میرا اپنامذہب یہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے صرف آنحضرت کے انعکاس سے جو نبوت ہو وہ جائز ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۲) الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹، ۱۰ سے سہو کتابت ہے غالباً نبی نہ رکھا گیا“ ہونا چاہیے۔ (مرتب)