ملفوظات (جلد 5) — Page 64
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد پنجم کی اُمت کے لوگ بھی مماثلت کے پورا کرنے میں صاف طور سے نبی اللہ کا لفظ فرمادیا اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ ادھر یہ کہ آنحضرت کی کسر شان بھی نہ ہو اور اُدھر موسوی سلسلے سے مماثلت بھی پوری ہو جاوے۔ تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گذرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امر پر پختہ ہو گئے تھے کہ آنحضرت ہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرت کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہراً بھی بول دیا۔ یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرمادیا تھا کہ اچھا اب کر لیا کرو۔ پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ تازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تا پھر وہ اسی عادت کی طرف عود نہ کریں۔ پھر جب دیکھا کہ اب ان کے ایمان کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے شرک و بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دے دی۔ بالکل اسی طرح یہ امر ہے۔ پہلے تیرہ سو برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولا اگر چہ صفتی رنگ میں صفت نبوت اور انوار نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ ان لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیاء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا۔ مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔ آپ کے جانشینوں اور آپ کی اُمت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو اُمور مد نظر رکھنے ضروری تھے۔ اوّل عظمت آنحضرت اور دوم عظمت اسلام ۔ سو آنحضرت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تا کہ آپ کی ختم نبوت کی ہتک نہ ہو کیونکہ اگر آپ کے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا جیسے حضرت موسیٰ کے بعد کے لوگوں پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپ کی ختم نبوت کی ہتک تھی اور کوئی عظمت نہ تھی سو خدا نے ایسا کیا کہ اپنی حکمت اور ۱۳۰۰ ہوئے؟“ (بقیہ حاشیہ ) وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت : ۷۰) کے کیا معنی : (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۹)