ملفوظات (جلد 5) — Page 63
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۳ جلد پنجم اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی۔ برعکس اس کے آنحضرت کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا۔ اگر چہ آنحضرت کی اُمت میں ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اور ہزاروں کو انوار نبوت کا حصہ عطا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے مگر چونکہ آنحضرت کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا اس لیے خدا نے نہ چاہا کہ کسی دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسر شان کی جاوے۔ آنحضرت کی اُمت میں سے ہزار ہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے آثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام ان پر صرف شانِ نبوت آنحضرت اور سدِ باب نبوت کی خاطر ان کو اس نام سے ظاہراً ملقب نہ کیا گیا۔ لے مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرت کے فیوض اور روحانی برکات کا دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جاری بھی تھے جیسا کہ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب: ۴) سے نکلتا ہے کہ آنحضرت کی مہر اور اذن سے اور آپ کے نور سے نور نبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے تا کہ موسوی سلسلے کے نبیوں کے ساتھ بوں کے ساتھ آپ ل البدر سے ۔ لیکن اگر اس اُمت میں کوئی بھی نبی نہ پکارا جاتا تو مماثلت موسوی کا پہلو بہت ناقص ٹھہرتا اور مین وجہ اُمت موسوی کو ایک فضیلت ہو جاتی اس لیے یہ خطاب آنحضرت نے خود اپنی زبان مبارک سے ایک شخص کو دے دیا جس نے مسیح ابن مریم ہو کر دنیا میں آنا تھا۔ کیونکہ اس جگہ دو پہلو مد نظر تھے۔ ایک ختم نبوت کا ، اُسے اس طرح نبھایا کہ جو نبی کے لفظ کی کثرت موسوی سلسلہ میں تھی اُسے اُڑا دیا۔ دوسری مشابہت اُسے اس طرح سے پورا کیا کہ ایک کو نبی کا خطاب دے دیا۔ تکمیل مشابہت کے لیے اس لفظ کا ہونا ضروری تھا سو پورا ہو گیا اور جو مصلحت یہاں مد نظر تھی وہ موسوی سلسلہ میں نہیں تھی کیونکہ موسی خاتم نبوت نہیں تھے ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۷ ۱ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۲) البدر میں ہے ۔ نبوت کے معنے مکالمہ کے ہیں جو غیب کی خبر دیوے وہ نبی ہے۔ اگر آئندہ نبوت کو باطل قرار دو گے تو پھر یہ امت خیر الامہ نہ رہے گی بلکہ کالانعام ہو گی اور سورۃ فاتحہ کی تعلیم جس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة: ۷،۶) ہے بے سود ٹھہرے گی ۔ کیونکہ انعام اور اکرام تو خدا کا اب کسی پر ہونا نہیں تو پھر دعا کا فائدہ کیا ہوا ؟ اور نعوذ باللہ یہ ماننا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں قدسی قوت ہی نہ تھی۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس میں معرفت کی پیاس رکھ دی ہے اور خود ہی فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعلى (بنی اسراءیل: (۷۳) ادھر یہ کہا اُدھر مکالمہ کا دروازہ بند ہوا تو پھر تو خدا نے دیدہ دانستہ اعلی رکھنا چاہا اور پھر