ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 58

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ جلد پنجم رو کیا بھلا ضروری ہے کہ اس شخص کے جسم پر لمبے لمبے بال بھی ہوں۔ چار پاؤں بھی ہوں اور دُم بھی ہو اور وہ جنگلوں میں شکار بھی کرتا پھرے؟ بلکہ جس طرح من وجه تشابہ ہوتا ہے ویسا ہی من وجہ مخالف بھی ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔ جو اعلیٰ درجہ کی خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں ۔ آنحضرت کا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قومی پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔ اس زمانے میں تو ایک گونہ جہالت تھی ۔ اب کوئی کہے کہ اس طرح بھی تشابہ نہ ہوا تو یہ اس کا کہنا درست نہ ہوگا ۔ نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے ہی گی نہیں اور نہ اس کو شرف مکالمات اور مخاطبات ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی ۔ اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت جیسے عالی جناب، اولو العزم صاحب شریعت کامل آنے والے تھے۔ اسی وجہ سے وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا۔ مگر آنحضرت کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرت کی اجازت کے بند ہو چکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب: (۴۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپ کی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیا ہے کہ روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور روحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہوگا نہ الگ طور سے ۔ وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی ۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو یہ جو کہا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ یہ جھوٹ تھا نعوذ باللہ۔ اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامۃ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ اُمت ۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی