ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 57

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ جلد پنجم بائیں کا دائیں ۔ آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا ۔ آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔ اسی صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص دوراستوں میں سے کس کو اختیار کرے جاتا ہو اور ایک جگہ پر دوراہ جمع ہو جائیں۔ ایک دائیں اور دوسرا بائیں ۔ تو کس راہ کی طرف جاوے؟ فرمایا کہ اس سے اگر تمہاری مراد بھی جسمانی راہ ہے تو پھر اس راہ جاوے جس میں اس کی صحت نیت اور کوئی فساد نہیں اور اگر جانتا ہے کہ ادھر بد بو اور عفونت ہے اور یا کنجروں اور فاسقوں، خدا اور سول کے دشمنوں کے گھر ہیں تو اس راہ کو چھوڑ دے۔ غرض صحت نیت کا خیال کر لے اور فساد کی راہ سے پر ہیز بکلی کرے۔ ایک اور سوال کیا کہ بے ایمانی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ بے ایمانی کیسے پیدا ہوتی ہے فرمایا کہ بے ایمانی خدا کی معرفت نہ ہونے اور ایمان کے کامل درجہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ادھورا ایمان اس کی وجہ ہوتی ہے۔ ایک اور صاحب نے سوال کیا کہ حضور جب سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدی میں ختم نبوت سے مُراد مماثلت ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سلسلے کے خا کے خادم تو نبی کہلائے مگر ادھر اس طرح کوئی بھی نبی نہ کہلایا ؟ فرمایا کہ مشابہت میں ضروری نہیں کہ مشتبہ اور مشبہ بہ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذرا بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔ اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔ تو اب اس میں ل البدر سے فرمایا۔ اگر سوال کا تعلق ظاہری راستوں سے ہے تو جو راستہ عافیت کا ہو اُدھر سے جاوے۔ مثلاً ایک راستہ میں مفسد لوگ کنجر وغیرہ آباد ہیں یا شراب خوری ہوتی ہے تو اس کو چھوڑ دیوے اور اگر باطنی راستوں سے سوال کا تعلق ہے تو بھی وہی راستہ اختیار کرے جس میں صلاح اور تقوی ہو۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۹)