ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد پنجم نصیب نہ ہوا تو یہ تو گالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ کہ خیر الام ۔ اور پھر سورۃ فاتحہ کی دعا بھی لغو جاتی ہے۔ اس میں جو لکھایا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷۶) تو سمجھنا چاہیے کہ ان پہلوں کے پلاؤ زردے مانگنے کی دعا سکھائی ہے اور ان کی جسمانی لذات اور انعامات کے مورث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہرگز نہیں اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ ہی کیا گیا جس سے اسلام کا علو ثابت ہو دے ۔ اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرت کی قوت قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسی سے مرتبے نہ میں گرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی اُمت میں سے سینکڑوں نبی آئے مگر آپ کی اُمت سے خدا کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا ہے۔ نہیں بلکہ آنحضرت کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہو کر اور آپ کی مہر سے اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس اُمت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں ۔ سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے۔ چنانچہ حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعلی (بنی اسراءیل: ۷۳ ) اگر خدا نے خود ہی اس اُمت کو اعلی بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اسے اعلی بنایا اور خود ہی اعلی کے واسطے زجر اور تو پیچ ہے کہ آخرت میں بھی اعلی ہوگی ۔ اس اُمت بیچاری کے کیا اختیار ۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر اسے خود ہی دھکا دے دے۔ گویا نبوت کا سلسلہ بند کر کے فرمایا کہ تجھے مکالمات اور مخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور تو بہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَی (بنی اسراءیل : ۷۳) اب بتاؤ کہ اس متناقض کا کیا جواب ہے؟ ایک طرف تو