ملفوظات (جلد 5) — Page 56
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد پنجم لگا لے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں کے مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہیے ہمارے آنحضرت تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔ علاوہ ازیں ٹوپی، یا گڑتہ، چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی ۔ جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہیے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔ کے جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے۔ کیا کفار کی رسوم و عادات کی ؟ اب اسے ڈر چاہیے تو خدا کا اور اتباع چاہیے تو محمد رسول اللہ کی ۔ کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں ۔ اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ سے ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔ سیالکوٹ سے ایک دو بار انگریزی جوتا آیا۔ ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی ل البدر میں ہے ۔ دو ہے ۔ مثلاً کوئی مسلمان ہندوؤں کی طرح بودی وغیرہ رکھ لیوے تو ا وغیرہ رکھ لیوے تو اگر چہ قرآن اور حدیث میں اس کا کہیں ذکر صریح نہیں ہے مگر چونکہ کفار سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے اس لیے اس سے پر ہیز چاہیے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۹) البدر میں ہے ۔ مسلمانوں کا پیرا یہ اختیار کرنا عمدہ بات ہے۔ اس سے انسان مسلمان ثابت ہوتا ہے۔ حتی الوسع دوسروں کو اعتراض کا موقع نہ دینا چاہیے جو لباس اسلام کا ہے اسی میں تقویٰ ہے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۹) البدر سے حتی الو حتی الوسع اپنے آپ کو ایسے لباس سے بچانا چاہیے کہ جس سے مشابہت کفار نا بہت کفار ہو جاتی ہے۔ جب لباس کفار کا ہے تو دوسرے انسان کو وہ کافر ہی نظر آوے گا۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر اصرار کرتا ہے تو آخر کار بڑی بڑی باتوں پر آجاتا ہے مگر جب مسلمان کہلاتا ہے تو اسے کفار کے لباس کی کیا ضرورت ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۹)