ملفوظات (جلد 5) — Page 55
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۵ جلد پنجم دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصے سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آ جاتا ہے تو سانپ کی طرح بل بیچ کھاتے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گالی گلوچ تک آجاتے ہیں ورنہ بھلا دنیا میں ہزاروں فقیر، لنگوٹی پوش، بھنگی ، چرسی، کنجر ، بد معاش، بدعتی وغیرہ ہزاروں پھرتے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چاہیں بد مذہبیاں اور بے دینیاں کریں پھر بھی ان سے مست ہی ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ وہ چونکہ روحانیت سے خالی ہیں اس واسطے ان کے واسطے کسی کو کشش نہیں لے آنحضرت کے زمانہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبار چھوڑ کر بھی آپ کی مخالفت کے لیے کمر بستہ ہوئے اپنے مالوں کا جانوں کا نقصان منظور کیا اور آنحضرت کی مخالفت کے لیے دن رات تدبیروں اور منصوبوں میں کوشاں ہوئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو توجہ نہ تھی اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہوئے ۔ آنحضرت کے واسطے جس طرح گھر گھر میں پھوٹ اور جدائی ہوتی تھی مسیلمہ کے واسطے ہرگز نہ ہوئی ۔ غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولوں کو اُبھارتی اور جوش میں لاتی ہے سعیدوں کے ولولے سعادت اور شقیوں کے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں۔ شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔ اسی واسطے ان کے واسطے کشش بھی اُلٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے۔ کے در بار شام ) ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟ اس پر تشبه بالكفار حضرت اقدس نے فرمایا کہ تشبه بالكفار تو کسی بھی رنگ میں جائز نہیں ۔ اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سالگاتے ہیں کوئی وہ بھی البدر میں مزید لکھا ہے۔ مگر ہمارے لئے ہر ایک طرف سے کوشش ہے کہ یہ کاروبارڑ کے مگر وہ بڑھ رڈ کے مگر وہ بڑھتا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں کی فطرت الٹی ہے اس لیے اُن کو کشش بھی الٹی ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۹) الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷