ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 54

ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد پنجم ہر جانور کا یہ قاعدہ ہے اور اس کے اندر ایک خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ سے اسے ایک دفعہ ٹھوکر لگتی ہے اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا مگر صرف انسان ہی ایک ہے جو با وجود اشرف المخلوقات ہونے کے ان پرندوں وغیرہ سے بھی گرا ہوا ہے کہ جہاں سے اسے مصائب پہنچتے ہیں اور ضرر اور نقصان اٹھاتا ہے اس کی طرف بھاگنے کا حریص ہوتا ہے ہو شیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس نافرمانی کو ترک کرتا ہے بلکہ جذبات نفس کا مطیع ہو کر پھر اسی کام کو کرنے لگتا ہے جس سے ایک بار ٹھوکر کھا چکا ہو۔ لے ۱۴ را پریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) فرمایا۔ صادق کی بعثت کے ساتھ ہی صادق کے ساتھ ایک کشش نازل ہوتی ہے آسمان سے اس کے واسطے ایک کشش نازل ہوا کرتی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطابق کشش کرتی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سعید روحیں صادق کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔ دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا کے موافق بنانا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی کسی کو صادق وفادار دوست بنانے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑنا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے برعکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر اب لاکھوں ہیں کہ غلاموں کی طرح سچے فرمانبردار، وفادار، صدق و وفا کے پہلے خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں ہے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس امر کی اطلاع آج سے بائیس برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہوئی تھی دی گئی چنانچہ الہام ہے کہ وَ الْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً منی آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے۔ سعید تو ہم دنیا کی سے الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ البدر سے۔ ” جس طرح انسان کا جسم ایک ہیکل کی طرح بنا کر اس میں خدا نے روح پھونکی ہے ویسے ہی ایک کشش بھی دلوں میں دی ہے جو کہ ان کو کھینچ کر یہاں لا رہی ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۹)