ملفوظات (جلد 5) — Page vi
دو اور کبھی اپنے احباب کو شیطان کی تدابیر اور مکروں کی طرف جو وہ اسلام کے خلاف کر رہا ہے ایک فتح نصیب جرنیل کی طرح توجہ دلا کر اس عظیم الشان جنگ کے لئے تیار کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں:۔ یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے۔ شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔ شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اُس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے ۔ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ ۱۲۳) اور کبھی سوالات کے جوابات دینے میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ ایک دوست کے وظیفہ دریافت کرنے پر فرماتے ہیں :۔ 66 نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف ۔ تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و هم د 66 م دور ہوتے ہیں اور م اور مشکلات حل ہوتے ہیں ۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۱۳۳ ) پھر ان ملفوظات میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن سے آپ کی سیرت طیبہ پر روشنی پڑتی ہے اور ان سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی اشاعت کے لئے بے پناہ جوش پایا جاتا ہےاور اللہ تعالیٰ کی ذات سے آپ کو اس قدر الفت اور پیار تھا کہ آپ کے دل و دماغ سے اس کی یاد کبھی مونہیں ہوتی تھی اور آپ کی زبان ہمیشہ اس کے ذکر سے تر رہتی ۔ مثلاً ۱۴ مارچ ۱۹۰۳ء کو مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار سول ملٹری سے طاعون سے متعلق مضمون پڑھ کر سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کا کہیں ذکر نہ تھا۔ حضرت اقدس نے سن کر فرمایا :۔ وو ” یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا لفظ ہر گز منہ پر نہیں لاتے حالانکہ اگر حاکم کے منہ سے ایک بات نکلتی ہے تو ہزاروں آدمیوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۳۰۱) پھر بٹالہ کے ایک اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کا جو ایک دیسی آدمی تھا ذکر کر کے فرمایا کہ ” اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ نماز پڑھنی چاہیے۔ اس پر بہت سے مسلمانوں نے نماز شروع کردی ۔ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۳۰۱)