ملفوظات (جلد 5) — Page v
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام از ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء تا ۳۰ رمتی ۱۹۰۳ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات طیبہ کی یہ پانچویں جلد ہے جو ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء سے لے کر ۳۰ مئی ۱۹۰۳ء کے ملفوظات طیبہ پر مشتمل ہے۔ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر ہم جلد اول کے پیش لفظ میں کر چکے ہیں اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ ملفوظات طیبہ جماعت کی اصلاح و تربیت کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔ یہ مجموعہ ہے اُن مواعظ و نصائح کا جو اللہ تعالیٰ کا مقدس مسیح اور مہدی افراد جماعت کے حالات کے پیش نظر انہیں اعلیٰ مدارج روحانیت پر لے جانے کے لئے وقتاً فوقت کرتا رہا۔ یہ ایک روحانی مائدہ ہے جو انواع واقسام کے مطائبات پر مشتمل ہے جس سے مختلف طبائع اور مختلف قابلیتوں والے افراد مستفید ہو سکتے ہیں۔ کبھی آپ سلسلہ کے قیام کی ضرورت اور اس کی علت غائی کی طرف جماعت کو توجہ دلاتے نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ۔ اب پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ آپ کا جلال دوبارہ ظاہر ہو اور آپ کے اسم احمد کی تجلی دنیا میں پھیلے اور اسی لئے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اس لیے کوئی مخالف ہاتھ اس کو گزند نہیں پہنچا سکتا ۔“ 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۳۱ ، ۱۳۲) اور کبھی طالبان حق اور متلاشیان حقیقت کی یوں رہنمائی فرماتے نظر آتے ہیں :۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص محض احقاق حق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا وہ میرے معاملہ کی سچائی پر خدا تعالیٰ سے اطلاع پائے گا اور اُس کا زنگ دور ہو جائے گا۔ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۳۰ )