ملفوظات (جلد 5) — Page 50
ملفوظات حضرت مسیح موعود استغفار اور توبہ کرتا رہے۔ جلد پنجم اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ ہے اس قضاء معلق دعا سے مل سکتی ہے اہل علم و جاتے ہیں کہ فضائل جایا کرتی ہے۔ اس اہے لیے انسان پوری تضرع خشوع ، خضوع اور حضور قلب سے اور سچی عاجزی ، فروتنی اور درد دل سے اُس سے دعا کرے۔ خواب میں دیکھے ہوئے معاملات کے متعلق خواہ وہ کسی رنگ میں ہوں ۔ دونوں صورتوں میں دعا کی ضرورت ہے۔ ہمیں بار ہا خیال آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ معلوم ہوا ہوگا کہ انہوں نے ساری رات دعا میں صرف کی اور نہایت درجے کے درد انگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا کے حضور دعا کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس درجے کا گداز اور رقت ان میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو۔ کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو معلق ہوا کرتی ہے ایسی بار یک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دعا سے اکثر وہ قضا جو قضاء مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے مل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں مگر ان کے اس امر کا جواب ہے اور ایسے بہت سے ایک اور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیر معلق ایسے طور سے واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلق ہے یا مبرم محال ہو جاتا ہے۔اسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبرم ہے مگر در حقیقت ہوتی وہ تقدیر معلق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے ٹل گئی ہوں کیونکہ تقدیر معلق مل جایا کرتی ہے۔ غرض اہل اللہ نے اس امر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلق مل جایا کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں فرمایا کہ سُمِعَ لِتَقویٰ یعنی تقدیر تو بڑی سخت تھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کی تقویٰ کی وجہ سے آخر کار اس کی دعا ضائع نہ گئی بلکہ سنی گئی۔ یہ