ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 49

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹ جلد پنجم صورتوں میں مرتین نفع و نقصان کا ذمہ وار ہے۔ پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے ۔ آج کل گورنمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت میں ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت عدل میں رہن بے شک جائز ہے۔ جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑا رہن با قبضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتین فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا۔ پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا۔ زیور ہو کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں۔ اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔ زیور کی زکوۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوۃ ڈیڑھ سوروپیہ دیا ہے۔ پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوٰۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔ اے ( در بار شام ) ایک خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ خواب قضاء معلق ہوتے ہیں خواب ہر ایک انسان کو عمر بھر میں بھی مبشر اور بھی وحشت ناک ضرور آتے ہیں ۔ مگر وہی قضا مبرم اور فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی ۔ خدا تعالیٰ کی معرفت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ قضا کبھی مل بھی جایا کرتی ہے۔ خواب کے حالات خواہ مبشر ہوں یا منذر، دونوں صورتوں میں قضاء معلق کے رنگ میں ہوا کرتے ہیں ۔ ان کے نتائج کے برلانے یا روکنے کے واسطے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرے کہ اگر یہ امر میرے واسطے مفید اور تیری رضا کے بموجب ہے تو تو اسے جیسا مجھے خواب میں مبشر دکھایا ہے ایسا ہی بشارت آمیز صورت میں پورا کر ورنہ منذر ہے تو اس کی خوفناک صورت سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنے کے لیے الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱ بھی