ملفوظات (جلد 5) — Page 51
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱ جلد پنجم عیسائی بد نصیب اس امر کی طرف تو نہیں خیال کرتے کہ اول تو خدا اور اس کا مرنا یہ دونوں فقرے آپس میں کیسے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں جب ایک کان میں یہ آواز ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایس یہ کیا لفظ ہیں؟ اور پھر ما سوا اس کے ایسے ایک شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے بخیال ان کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت ایک لغو اور بیہودہ کام میں جو اس کے آقا ومولیٰ کی منشا اور رضا کے جواس خلاف تھا خواہ مخواہ ضائع کیا اور پھر ساری رات رویا اور ایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سنی گئی ۔ واہ! اچھا خدا تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی روح انسانی تھی نہ رُوح الوہیت ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی روح اگر انسانی تھی تو اس وقت ان کی الوہیت کی روح کہاں تھی؟ کیا وہ آرام کرتی تھی اور خواب غفلت میں غرق نوم تھی ۔ خود بیچارے نے بڑے درد اور رقت کے ساتھ چلا چلا کے دعا کی ، حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی ۔ وہاں ایک بھی نہ سنی گئی ۔ آخر کا ر خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملک عدم کو پہنچے۔ کیسے قابلِ شرم اور افسوس ہیں ایسے خیالات ۔ ہمارے آنحضرت پر بھی ایسا ہی ایک وقت مصیبت اور صعوبت کا آیا تھا اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر ایک ایسا مشکل اور نہایت درجے کی مصیبت کا ایک وقت ضرور آتا ہے۔ آنحضرت پر احد کا معاملہ کوئی تھوڑا معاملہ تھا ؟ آخر کار وہاں شیطان بھی بول اُٹھا تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت مارے گئے اور ہو سکتا ہے کہ بعض صحابہؓ نے بھی اس افراتفری میں ایسا خیال کیا ہو اور بعض صحابہ تو تتر بتر بھی ہو گئے تھے۔ آپ ایک گڑھے میں گر پڑے تھے ۔ وَ إِنْ مِنْكُمُ إِلَّا وَارِدُهَا اج كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْنَا مَقْضِيًّا (مریم : ۷۲) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرور انبیاء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجے کی مصیبت کا وقت اور سخت جانکاہ مشکل ہوتی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعوبت میں وارد ہوتے ہیں مگر خدا جلد تر ان کی خبر گیری کرتا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چونکہ وہ ایک تقدیر معلق ہوتی ہے اسی واسطے ان کی دعاؤں اور انتہال سے مل جایا کرتی ہیں ۔