ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 42

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲ جلد پنجم جس زور کے طاعون کی وجہ سے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں اس طرح کسی کو یقین چھوڑ وہم بھی نہ تھا کیونکہ یہ الہام اس وقت کا ہے جب ان لوگوں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ اس لیے ان تمام ناموں کو محفوظ رکھا جاوے اور اگر ان لوگوں کا الگ رجسٹر نہ ہو تو رجسٹر بیعت ہی میں سرخی کے ساتھ ان کو درج کیا جاوے۔ ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ کنچنی کی مسجد میں نماز سکھنے کی بنائی ہوئی مسجد میں نماز درست ہے رست نہیں ہے۔ پھر ایک شخص نے پوچھا کیا قیامت کے دن بھی ہماری طریق ادب سے بعید سوالات جماعت اسی طرح آپ کے آگے: آپ کے آگے پیچھے ہو گی ؟ فرمایا۔ یہ تفصیلیں نہیں ہو سکتی ہیں۔ ایسے سوال طریقِ ادب سے بعید ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ پر چھوڑو۔ سوال ہوا کہ مخالف ہم کو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں حق کی چارہ جوئی ہماراحق ہے۔ ہم ان سے بذریعہ عدالت فیصلہ کر لیں؟ کرو۔ فرمایا۔ ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔ فساد کرنا منع ہے۔ کوئی دنگہ فسادنہ سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھا لیویں یا نہ؟ مخالف کے گھر کی چیز کھانا فرمایا۔ نصاری کی پاک چیزیں بھی کھائی جاتی ہیں۔ ہندوؤں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے۔ ہاں میں تو نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو۔ مخالف سے حسن معاشرت اس کے سوائے دنیاوی معاملات میں بے شک شریک ہو۔ احسان کرو، مروّت کرو اور ان کو قرض دو اور ان سے قرض لو اگر ضرورت پڑے اور صبر سے کام لو۔ شائد کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔