ملفوظات (جلد 5) — Page 40
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد۔ جلد پنجم جب تک کوئی اپنے آپ کو گناہ سے نہ بچاوے گا اسے برکت نہ ہو گی یا درکھو کہ میں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے۔ اب تم کو چاہیے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا کہ بچے رہو۔ جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے توفیق نازل کی جاتی ہے کہ گناہ سے بچے اور دعا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ اسے مل جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: ۳) یعنی جو امورا سے کشاں کشاں گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے۔ قرآن کو بہت پڑھنا چاہیے اور پڑھنے کی توفیق خدا سے طلب کرنی چاہیے کیونکہ محنت کے سوا انسان کو کچھ نہیں ملتا۔ کسان کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلاتا ہے اور اتا ہے اور قسم قسم کی محنت اٹھاتا ہے تب پھل حاصل کرتا ہے مگر محنت کے لیے زمین کا اچھا ہونا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فائدہ پاوے گا لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ٤٠) دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیے جب یہ ہوگا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا کو اپنے بندے پر خود رحم آجاتا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔ گناہ سے بچو۔ نماز ادا کرو۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھو ۔ خدا کا سچا غلام وہی ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔ لقاء ہر ایک شخص کو خود بخود خدا سے ملاقات الہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرت ہیں کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس واسطے جو آپ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا ۔ انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ ۔ قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى توضر انْفُسِهِمْ (الزمر : ۵۴) اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق ۔ رسول کریم کے بندہ ہونے