ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 39

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹ جلد پنجم ہے وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم کو عذاب دیوے بشرطیکہ تم ایمان لاؤ اور شکر کرو۔ انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے باعث ہوتا ہے خدا فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِم (الرعد: ۱۲) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے جب تک انسان اپنے آپ کو صاف نہ کرے تب تک خدا عذاب کو دور نہیں کرتا ہے۔ یہ دنیا خود بخود نہیں ہے اس کے لیے ایک خالق ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مرضی سے ہو رہا ہے بغیر اس کی رضا کے ایک ذرہ حرکت نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ سے ترساں رہے گا وہ خود محسوس کرے گا کہ اس میں ایک فرقان ( فرق کرنے والی شے دوسروں سے ) پیدا ہو گیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ شیطانی سیرت کا انسان نہ ہو۔ تکالیف تو نبیوں پر بھی آتی ہیں مگر وہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان کے لیے وہ باعث برکت ہوتی ہیں۔ دغا باز آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی وہ اس کے منہ پر ماری جاتی ہے کیونکہ وہ دراصل نماز نہیں پڑھتا بلکہ خدا کو رشوت دینا چاہتا ہے مگر خدا کو اس سے نفرت ہوتی ہے کیونکہ وہ رشوت کو خود پسند نہیں کرتا۔ نماز کوئی ایسی ویسی تھے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شے ہے جس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ الخ (الفاتحة:1) جیسی دعا کی جاتی ہے اس دعا میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جولوگ برے کام کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا کا غضب آتا ہے۔ الغرض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہیے جو کام ہوتا ہے اس کے ارادے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ طاعون بھی اسی کے حکم سے آئی ہے یہ دنیا سے رخصت نہ ہو گی جب تک ایک تغیر عظیم پیدا نہ کر لے جو اس سے نہیں ڈرتا وہ بڑا بد بخت ہے اور اس کے استیصال کے لیے ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو پاک کرو کیونکہ اگر پاک ہو کر مر بھی جاوے گا تو بھی بہشت کو پہنچے گا۔ مرنا تو سب نے ہے مومن نے بھی اور کافر نے بھی مگر مومن اور کافر کی موت میں خدا فرق کر دیتا ہے۔ دیکھو ان باتوں کو منتر جنتر نہ سمجھو اور یہ خیال نہ کرو کہ یونہی فائدہ ہو جاوے گا جیسے کہ بھوکے کے سامنے روٹیوں کا انبار فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ وہ نہ کھاوے اسی طرح آج کے اقرار کے مطابق