ملفوظات (جلد 5) — Page 38
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد پنجم الزام لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو بری خیال کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نماز بھی پڑھی اور دعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہوتی یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہوتا ہے۔ نماز اور دعا، جب تک انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔ اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندرز ہر ملی ہوئی ہے تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہو گا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دے گا یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا اثر پہلے کرجاتی ہے یہ ہے بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پر ادا کرے جیسے ایک انسان اگر دور بین سے دور کی شے نزدیک دیکھنا چاہے تو جب تک وہ ڈور بین کے آلہ کو ٹھیک ترتیب پر نہ رکھے فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال نماز اور دعا کا ہے اسی طرح ہر ایک کام کی ایک شرط ہے جب وہ کامل طور پر ادا ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے اگر کسی کو پیاس لگی ہو اور پانی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وہ پیے نہ تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطرہ پیے تو کیا ہوگا ؟ پوری مقدار پینے سے ہی فائدہ ہوگا غرضیکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا نے ایک حد مقرر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو بابرکت ہوتا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلاتے اور نہ ان میں برکت ہوتی ہے۔ عاجزی اختیار کرنی چاہیے عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان عاجزی تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریت: ۵۷) تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعا ئیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا اسے برباد نہیں کیا کرتا لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں ۔ اگر تم ہر وقت اللہ کو یا درکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ بہت پکا