ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 37

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷ جلد پنجم جب انسان تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو فراموش کر دیتا ہے اور تائب کو بے گناہ سمجھتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تائب اپنی توبہ پر قائم رہے بہت لوگ ہیں کہ تو بہ کر کے بھول جاتے ہیں مثلاً حج کرنے والے حج کر کے آتے ہیں اور واپس آکر چند دنوں کے بعد پھر سابقہ بدیوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو ان کے ایسے حج سے کیا فائدہ؟ خدا تعالیٰ گناہوں سے ہمیشہ بیزار ہے اس لیے انسان کو گناہ سے ہمیشہ بچنا چاہیے جو شخص اس بات پر قادر ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور پھر نہ چھوڑے تو خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور پکڑے گا اگر تم چاہتے ہو کہ اس تو بہ کے درخت سے پھل کھاؤ اور تمہارے گھر وباؤں کوضرور اگرتم تو کے سے بچے رہیں تو چاہیے کہ سچی توبہ کرو۔ خدا تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلا کرتا جیسے قرآن شریف میں ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا (فاطر:۴۴) اور جو انسان ذراسی بھی نیکی کرتا ہے تو خدا اسے ضائع نہیں کرتا اسی طرح جو ذرہ بھر بدی کرتا ہے اس پر بھی خدا تعالی مواخذہ کرتا ہے پس جب یہ حالت ہے تو گناہ سے بہت بچنا چاہیے۔ بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پروا نہیں کرتے گویا گناہ کو گناہ کی پروانہ کرنی ایک شیریں شربت کی مثال خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہ ہوگا مگر یاد رکھیں کہ جیسے خدا تعالی بڑا غفور اور رحیم ہے ویسے ہی وہ بڑا بے نیاز بھی ہے جب وہ غضب میں آتا ہے تو کسی کی پروا نہیں کرتا وہ فرماتا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَا (الشمس : ١٦) یعنی کسی کی اولاد کی بھی اسے پروانہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص ہلاک ہو گا تو اس کے یتیم بے کس بچے کیا کریں گے آج کل دیکھو یہی حالت ہو رہی ہے آخر کا ر ایسے بچے پادریوں کے ہاتھ پڑ جاتے ہیں اس لیے گناہ کر کے کبھی بے پروامت ہو اور ہمیشہ تو بہ کرو۔ یہ مت خیال کرو کہ جو نماز کا حق تھا ہم نے ادا کر لیا یا دعا کا جو حق تھا وہ ہم نماز اور دعا کا حق نے پورا کیا ہرگز نہیں دعا اور نماز کے حق کا ادا کرنا چھوٹی بات نہیں یہ تو ایک موت اپنے اوپر وارد کرنی ہے نماز اس بات کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کرتا ہو تو یہ محسوس کرے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیا ہوں ۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر