ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 36

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶ جلد پنجم لاف و گزاف کا نام توحید نہیں مولویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے ہیں اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ ایک مولوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی انفاق ، صدقہ خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا جس سے مؤثر ہو کر ایک عورت نے پاؤں سے ایک پازیب اتار کر واعظ صاحب کو دے دی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں دوزخ میں جلے؟ یہ سن کر اس نے دوسری بھی دے دی جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چاہا کہ محتا جوں کو کچھ دے مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ باتیں سنانے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہوتیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گزارہ نہیں ہوتا انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل خوب ہے۔ ه واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند چون به خلوت می روند آن کار دیگر میکنند مردہ کو کلمہ پڑھتے سننا یعنی دین کا دوبارہ سرسبز ہونا۔ تعبیر رویا بڑ یعنی بوہڑ کے درخت سے مراد نصاری کا دین ہے کہ جس کی عظمت اور سرکشی تو بہت ہے مگر پھل ندارد۔ کے ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء بعد از نماز جمعہ چند اشخاص نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فرمائی۔ اس وقت جو تم بیعت کرتے ہو یہ بیعت تو یہ ہے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جو کوئی بیعت تو بہ تو بہ کرے گا اس کے گناہ بخش دوں گا گناہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور ان تمام احکام کے برخلاف کرے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے اور ان باتوں کو کرے جن کے کرنے سے منع فرمایا ہے گناہ ایسی چیز ہے کہ جس کا نتیجہ اس دنیا میں بھی بد ملتا ہے اور آخرت میں بھی ۔ ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۸،۱۰۷