ملفوظات (جلد 5) — Page 35
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵ جلد پنجم مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کہ لیا۔ بلکہ توحید کہ یہ معنے ہیں کہ عظمتِ الہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے ۔ ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک امر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور تو کل ہر گز نہ رہے اور خدا کی ذات میں اور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔ اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو گھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی لوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ روز مرہ کے اخباروں، رسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا۔ ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت لوگ نہیں سمجھتے ۔ مثلاً کسان کہتا ہے کہ میں جب تک کھیتی نہ کروں گا اور وہ پھل نہ لائے گی تب تک گزارہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشے پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے۔ اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خدا کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو در کنار پانی ، ہوا، غذا وغیرہ جن اشیاء پر مدار زندگی ہے یہ بھی پانی ، ہوا، غذا و غیره۔ انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا اذن نہ ہو۔ اسی لئے جب انسان پانی پیے تو اسے خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا ہے اور پانی نفع نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو۔ خدا کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خدا چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دیتا ہے۔ ایک شخص نے ایک دفعہ روزہ رکھا جب افطار کیا تو پانی پیتے ہی لیٹ گیا اس کے لئے پانی ہی نے زہر کا کام کیا۔ جو کام ہے خواہ معاشرت کا خواہ کوئی اور جب تک اس میں آسمان سے برکت نہ پڑے تب تک مبارک نہیں ہوتا۔ غرض کہ اللہ کے تصرفات پر کامل یقین چاہیے جس کا یہ ایمان نہیں ہے اس میں دہریت کی ایک رگ ہے پہلے ایک امر آسمان پر ہو رہتا ہے تب زمین پر ہوتا ہے۔