ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 34

ملفوظات حضرت مسیح موعود الله له جلد پنجم صحیح ہ صحیح بات کا اظہار ضروری نہیں پھر رسول ہوا کہ یہ باتیں واقع میں سے ہوتی ہں مگر ماركا۔ ہوتا تو کیا ہم لا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ( البقرة : ۲۸۴) کے موافق ظاہر کر دیا کریں؟ فرمایا۔ یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو۔ دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ہے لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) قانون کی پابندی ضروری شئے ہے۔ جب قانون روکتا ہے تو رکنا چاہیے جب کہ بعض جگہ اخفاء ایمان بھی کرنا پڑتا ہے تو جہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے؟ جس راز کے اظہار سے خانہ بربادی اور تباہی آتی ہو وہ اظہار کرنا منع ہے۔ مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ نتائج نیت پر مترتب ہوتے ہیں اس میں ایک جزو گندھک کا بھی ہوتا ہے اورگند چیک و بائی ہوا صاف کرتی ہے۔ چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاً انار بہت جلد ہوا کو صاف کرتا ہے اگر کوئی شخص صحیح نیست اصلاح ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلا وے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں ۔ مگر یہ شرط اصلاح نیت کے ساتھ ہو۔ کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتب ہوتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ صحابی نے گھر بنوایا اور آپ کو مجبور کیا کہ آپ اس میں قدم ڈالیں۔ آپ نے اس مکان کو دیکھا۔ اس کے ایک طرف کھڑکی تھی ۔ آپ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہوا کے آنے کے واسطے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو اذان سننے کے واسطے اس کی نیت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیت کا ثواب بھی تجھے مل جاتا۔ مجلس قبل از عشاء ) اول طاعون کے ٹیکہ کے متعلق بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی اس کے بعد توحید اور اسباب پرستی توحید کاذکر چل پڑا۔ فرمایا کہ توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰