ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 33

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳ جلد پنجم بھی باجا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسلامی جنگوں میں بھی تو باجا بجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔ ایک زرگر کی طرف سے سوال ہوا کہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی نیک نیتی میں برکت ہے مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملا دیتے تھے۔ اب ملاوٹ چھوڑ دی ہے اور مزدوری زیادہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دیں گے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو ۔ ایسا کام ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں؟ فرمایا ۔ کھوٹ والا کام ہر گز نہیں کرنا چاہیے اور لوگوں کو کہہ دیا کرو کہ اب ہم نے تو بہ کر لی ہے جو ایسا کہتے ہیں کہ کھوٹ ملا دو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں ۔ پس ایسا کام ان کے کہنے پر بھی ہر گز نہ کرو۔ برکت دینے والا خدا ہے اور جب آدمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور برکت دیتا ہے۔ پھر سوال ہوا کہ ملاں لوگ مردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں مُردے اور اسقاط کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟ فرمایا۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ ملاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں ۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ایک مختار عدالت نے سوال کیا کہ بعض مقدمات میں اگر چہ وہ سچا مقدمات میں مصنوعی گاہ بنانا او صداقت پری بینی و معنوی گواہوں کا نانا کیسا ہے؟ فرمایا۔ اوّل تو اس مقدمہ کے پیروکار بنو جو بالکل سچا ہو۔ یہ تفتیش کر لیا کرو کہ مقدمہ سچا ہے یا ، چھوٹا ۔ پھر سچ آپ ہی فروغ حاصل کرے گا۔ دوم گواہوں سے آپ کا کچھ واسطہ ہی نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ موکل کا کام ہے کہ وہ گواہ پیش کرے۔ یہ بہت ہی بڑی بات ہے کہ خود تعلیم دی جاوے کہ چند گواہ تلاش کر لاؤ اور ان کو یہ بات سکھا دو۔ تم خود کچھ بھی نہ کہو ۔ موکل خود شہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو ۔ ہو