ملفوظات (جلد 5) — Page 32
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد پنجم نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں مرکز میں نمازوں کا قصر در قصر کریں یا نہ؟ فرمایا۔ جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔ یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی پڑے گی ۔ حکام کا دورہ سفر نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔ خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔ اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائی قصر ہو گا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔ حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔ سعدی نے بھی کہا ہے۔ منعم بکوه و دشت و بیاباں غریب نیست هر جا که رفت خیمه زد و خوابگاه ساخت نکاح پر باجا اور آتش بازی نکاح پر با جابجانے اور آتش بازی چلانے کے متعلق سوال ہوا۔ فرمایا۔ ہمارے دین میں دین کی بنا یسر پر ہے عسر پر نہیں اور پھر إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔ اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری تھے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔ اس لیے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس ہےاور پراثر ہے۔اس لیے کرناضروری میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔ رنڈی کا تماشا، آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔ یہ جائز نہیں۔ باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے با جابجتا جاوے یا نکاح کے بعد؟ فرمایا۔ ایسے سوالات اور جزی در جزی نکالنا بے فائدہ ہے۔ اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے