ملفوظات (جلد 5) — Page 31
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱ جلد پنجم انکار کیا جاوے تو پھر تو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ آخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خدا تعالیٰ کا قرب انسان حاصل کرتا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا ثبوت سورۃ العادیات میں ہے عزیز ، حکیم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھرا ہوا ہے ناحق کا دکھ نہیں ہے۔ اے ۹ را پریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) فرمایا۔ حق اپنے زور اور قوت سے چلتا اور اس کے ساتھ باطل بھی ضرور چلتا ہے حق و باطل لیکن باطل اپنی قوت اور طاقت سے نہیں چلتا بلکہ جن کے پرتو سے چلتا ہے۔ چلتا ہے کیونکہ حق چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ باطل بھی چلے تا کہ تمیز ہو۔ کا ذبوں اور منکروں کے وجود سے بہت سی تحریکیں ہو جاتی ہیں ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دن ہی سارا مکہ آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ کر ساتھ ہو لیتا تو پھر قرآن شریف کا نزول اسی دن بند ہو جاتا اور وہ اتنی بڑی کتاب نہ ہوتی جس جس قدر زور سے باطل حق کی مخالفت کرتا اسی قدر حق کی قوت اور رفتار تیز ہوتی ہے۔ زمینداروں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہاڑ تپتا ہے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہوتی ہے یہ ایک قدرتی نظارہ ہے حق کی جس قدر زور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے۔ ہم نے خود آزما کر دیکھا ہے کہ جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور وغل ہوا ہے وہاں ایک جماعت تیار ہو گئی اور جہاں لوگ اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوئی۔ فتح کے لئے لئے اول اول لڑائی کا ہونا ضروری ہے اگر لڑائی نہ ہو تو فتح کا وجود کہاں سے آئے؟ پس اسی طرح اگر حق کی مخالفت نہ ہو تو اس کی صداقت کس طرح کھلے؟ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹