ملفوظات (جلد 5) — Page 30
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد پنجم دو چار موٹے موٹے مخالف اگر جلدی مر جاویں تو پھر خاتمہ ہی ہو جاوے ان مخالفوں کی ہی وجہ سے تو انوار، برکات اور خوارق کا نزول ہوتا ہے اور ہوگا۔ ابھی بعض کو ہدایت بھی ہوگی اور خدا تعالیٰ کا قانون اسی طرح پر چلا آتا ہے۔ سوال ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو پو چھا رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى کی تفسیر ۔ تحي الموتى (البقرۃ: ۲۶۱) اس سے کیا غرض ہے؟ جواب ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا مطلب جس کو سرہ الہی سمجھنا چاہیے یہ ہے کہ ہر ایک چیز میری آواز سنتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے پر کوئی شک پیدا نہیں ہوا کیونکہ ہم تو ہر روز دیکھتے ہیں کہ متعفن پانی، اغذیہ میں سے جانور پیدا ہو جاتے ہیں۔ پیٹ میں بچہ پیدا ہو جاتا ہے کیا وہ پہلے مردہ نہیں ہوتا؟ پس واقعات سے انکار کرنے والا تو بڑا احمق ہوتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اصل سر سے واقف ہونا چاہتے تھے۔ پس خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک چیز میری آواز سنتی ہے جیسے پرندے تمہاری آواز سن کر دوڑے چلے آتے ہیں اسی طرح ہر ایک چیز میری آواز سنتی اور میرے پاس دوڑی چلی آتی ہے یہاں تک کہ ادویہ اور اغذیہ جو انسان کے پیٹ میں جاتی ہیں اور ہر ذرہ ذرہ میری آواز سنتا ہے پس یہاں اللہ تعالیٰ ایمان اور معرفت کا یقین دلانا چاہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو خالق سے ایک بار یک کشش ہوتی ہے جیسے کسی کا شعر ہے۔ همه را روئی در خدا دیدم و آن خدا بر همه ترا دیدم خدا تعالیٰ نے جو ملائکہ کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرہ ذرہ پر صادق آسکتی ہے جیسے فرمایا إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسراءیل : ۴۵) ویسے ملائکہ کی نسبت فرمایا يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) اس کی تشریح نسیم دعوت میں خوب کردی ہے۔ ہر ایک ذرہ ملائکہ میں داخل ہے۔ اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھوٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو دہر یہ بنا دیتا ہے۔ غرض اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اس سے