ملفوظات (جلد 5) — Page 29
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹ جلد پنجم استفسار اور اُن کے جواب سوال - إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمُ اہل بیت سے مُراد تظهیرا (الاحزاب: ۳۴) کس کی شان میں ہے؟ : جواب ۔ اگر قرآن شریف کو دیکھا جاوے تو جہاں یہ آیت ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کا ذکر ہے۔ سارے مفسر اس پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُمہات المومنین کی صفت اس جگہ بیان فرماتا ہے دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ الطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ (النور : ۲۷) یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے طیبات ہوں ۔ ہاں اس میں صرف بیبیاں ہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھر کے رہنے والی ساری عورتیں شامل ہیں اور اس لیے اس میں بنت بھی داخل ہو سکتی ہے بلکہ ہے اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں تو حسنین بھی داخل ہوئے۔ پس اس سے زیادہ یہ آیت وسیع نہیں ہو سکتی جتنی وسیع ہو سکتی تھی ہم نے کر دی کیونکہ قرآن شریف از واج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہ اور حسنین کو مطہرین میں داخل کیا ہے پس ہم نے دونوں کو یک جا جمع کر لیا۔ شیعہ نے ازواج مطہرات کو سب وشتم سے یاد کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اس لیے قبل از وقت ان کی برأت کر دی ۔ سوال ہوا کہ بعض مخالف کہتے ہیں ہم پر کیوں طاعون بعض مخالفین کا طاعون سے بچنا نہیں آتی؟ جواب میں فرمایا کہ ایک تنگ دروازہ سے جب لاکھ آدمی گذرنے والا ہے تو کیا وہ سب کے سب ایک ہی دفعہ گذر جائیں گے؟ یا کسی آدمی نے لاکھ آدمی کی دعوت کی ہے تو کیا سب کو ایک دم کھانا کھلاوے گا؟ نہیں بلکہ نوبت به نوبت ۔ طاعون کا دورہ بہت لمبا ہے ابھی سے کیوں گھبراتے ہیں۔ لے اس عنوان سے الحکم جلدے نمبر ۱۵ صفحہ ۹ پر بعض سوال اور ان کے جوابات ایسے ہیں جو ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء کی ، ' ڈائری میں الحکم میں اور ۴ را پریل ۱۹۰۳ ء کی ڈائری میں البدر میں چھپ چکے ہیں لہذا ان کو چھوڑ کر باقی استفسار اور ان کے جواب یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ (مرتب)