ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 28

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸ جلد پنجم ایک بھائی کے خواب بیان کرنے پر فرمایا کہ رو یا کا اختتام یہ خواب ایک عجیب بات پر ختم ہوا ہے۔۔۔ شیطان انسان کو طرح طرح کے تمثلات سے دھوکا دینا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس رویا کا اختتام اچھی جگہ پر واقع ہوا ہے۔ ایسا اکثر ہوا کرتا ہے چنانچہ ایک اولیاء اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں۔ ایک ان کا مرید یہ کلمہ سن کر سخت متعجب ہوا اور رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ ایک دن خواب میں ان سے ملاقات ہوگئی ۔ دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیوں کہا تھا ؟ جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نور ایمان آخیر وقت پر چھین لے۔ اس لیے حسب معمول وہ میرے پاس بھی آیا اور مجھے مرتد کرنا چاہا اور میں نے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔ اس لیے میں نے کہا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں یعنی جب تک میں مر نہ جاؤں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں ۔ راستہ پر چلا پھر فرمایا ۔ آج رات مجھے بھی خواب آیا ہے نہ معلوم اس کے اصل مفہوم کیا ہیں میں ایک رویا نے اس کے لفظوں سے ان اجتہادی معنے نکالے ہیں ۔ جیسا جیسا کہ میں کسی را جاتا ہوں ۔ گھر کے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میں نے گود میں لیا ہوا ہے بعض جگہ نشیب و فراز بھی آجاتا ہے جیسے کہ دیوار کے برابر چڑھنا پڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جاتا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے۔ ارادہ ہے کہ ایک مسجد میں جانا ہے۔ جاتے جاتے ایک گھر میں جا داخل ہوئے ہیں ۔ گویا وہ گھر ہی مسجد موعود ہے جس کی طرف ہم جا رہے ہیں اندر جا کر دیکھا ہے کہ ایک عورت بعمر ۱۸ سال سفید رنگ وہاں بیٹھی ہے۔ اس کے کپڑے بھگوے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں ۔ جب اندر گئے ہیں تو گھر والوں نے کہا ہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے اور یہیں خواب ختم ہو گئی ۔ اے الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ءصفحہ ۶