ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 359

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶ دسمبر ۱۹۰۳ء ۳۵۹ جلد پنجم صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کا درجہ کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ کے وہ ایک اسوۂ حسنہ چھوڑ گئے ہیں اور اگر غور سے دیکھا جاوے تو اس کا واقعہ حضرت امام حسین (علیہ السلام ) کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ وہ تو مقید نہ تھے نہ ان کو زنجیریں ڈالی گئی تھیں صرف ایک قسم کا جنگ تھا امام حسین کے ساتھ بھی کچھ فوج تھی اگر ان کے آدمی مارے گئے تو آخران - آدمیوں نے بھی تو یزید کے آدمیوں کو مارا اور نہ جان کے بچانے کا کوئی موقع ان کو ملا مگر یہاں عبداللطیف صاحب مقید تھے زنجیریں ان کے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں مقابلہ کرنے کی ان کو قوت نہ تھی اور بار بار جان کے بچانے کا موقع دیا جاتا تھا یہ اس قسم کی شہادت واقع ہوئی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سو سال میں ملنی محال ہے۔ عام معمولی زندگی کا چھوڑ نا محال ہوا کرتا ہے حالانکہ ان کی زندگی ایک تنعم کی زندگی تھی مال ، دولت ، جاہ و ثروت سب کچھ موجود تھا اور اگر وہ امیر کا کہنامان لیتے تو ان کی عزت اور بڑھ جاتی مگر انہوں نے ان سب پر لات مار کر اور دیدہ دانستہ بال بچوں کو کچل کر موت کو قبول کیا۔ انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھلایا ہے اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی چاہیے جماعت کو چاہیے کہ اسی کتاب ( تذکرۃ الشہادتین) کو بار بار پڑھیں اور فکر کریں اور دعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو۔ او مومنوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک تو جان کو فدا کرنے والے اور دوسرے جو ابھی منتظر ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں میں سے وہ ۱۴ اچھے ہیں جو کہ قید میں ہیں ۔ ابھی بہت سا حصہ ایسا ہے جو کہ صرف دنیا کو چاہتا ہے حالانکہ جانتے ہیں کہ مر جانا ہے اور لے صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد چودہ آدمی اس وجہ سے بادشاہ کا بل نے قید کر دیئے کہ وہ کہتے تھے کہ صاحبزادہ صاحب پر ظلم ہوا اور صاحبزادہ صاحب حق پر تھے۔ (مرتب)