ملفوظات (جلد 5) — Page 358
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۸ جلد پنجم ہے۔ یہ ہے۔ ہے تو اس کی سزا بھی ساتھ ہی پاتا ہے۔ جس کسی کی جہنمی زندگی ہے وہ خوب محسوس کر لے گا۔ سچی بات یہ ہے کہ جرائم پیشہ کو وہ کبھی نہیں چھوڑتا جو شخص دلیری اور چالاکی سے گناہ کرتا ہے اس کا انجام بد ہوتا یہ تو جسمانی طور پر گناہ کی سزا ہے لیکن روحانی طور پر بھی جو شخص خدا کو نہیں پہچانتا وہ جہنم ہی بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ حیوانوں کی طرح کھا پی لیا اور عورتوں کے پاس ہو آیا۔ اگر اسی کا نام زندگی ہے تو بتلاؤ کہ حیوانوں میں اور اس میں کیا فرق ہے اور حیوانوں سے زائد قوی عقل و فکر وغیرہ کے خدا نے اسے کیوں دیئے ۔ جو لوگ ان قوی سے کام نہیں لیتے ان کو خدا تعالی اضل از انعام قرار دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس نے قومی کو معطل کر دیا۔ بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ انسان کو حقیقی طور پر معلوم ہو جاوے کہ خدا ہے۔ جس قدر جرائم ، معاصی اور غفلت وغیرہ ہوتی ہے ان سب کی جڑ خدا شناسی میں نقص ہے۔ اسی نقص کی وجہ سے گناہ میں دلیری ہوتی ہے۔ بدی کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ اور آخر کار بد چلنی کی وجہ سے آتشک کی نوبت آتی ہے پھر اس سے جذام ہوتا ہے جس سے نوبت موت تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ اگر بدکار آدمی بدکاری میں لذت حاصل نہ کرے تو خدا اسے لذت اور طریق سے دے دے گا یا اس کے جائز وسائل بہم پہنچادے گا ۔ مثلاً اگر چور چوری کرنا ترک کر دے تو خدا اسے مقدر رزق ایسے طریق سے دے دے گا کہ حلال ہو اور حرامکار حرا مکاری نہ کرے تو خدا نے اس پر حلال عورتوں کا دروازہ بند نہیں کر دیا۔ اسی لیے بد نظری اور بدکاری سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی جماعت کو کثرت ازدواجی کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا چاہیں تو کر لیں مگر خدا کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں ۔ پھر گناہ کر کے جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔' البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۳ ، ۱۴