ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 360

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۰ جلد پنجم موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے مگر پھر بھی دنیا کا خیال بہت ہے۔ اس سر زمین ( پنجاب ) میں بزدلی بہت ہے بہت کم ایسے آدمی ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اکثر خیال بیوی بچوں کا رہتا ہے دو دو آنہ پر جھوٹی گواہی دیتے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر سرزمین کابل میں وفا کا مادہ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ لوگ قرب الہی کے زیادہ مستحق ہیں (بشرطیکہ ما مور من اللہ کی آواز کو گوش دل سے سنیں ) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے ابراہیم کی تعریف کی ہے جیسے کہ فرمایا ہے ابْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی (النجم :(۳۸) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔ لوگوں کا دستور ہے کہ حالت تنعم ستم میں وہ خدا سے برگشتہ ر رہتے رہتے ہیں اور جب مصیبت اور تکلیف پڑتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں اور ذرا سے ابتلا سے خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں خدا کو اس شرط پر ماننے کے لیے طیار ہیں کہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف کچھ نہ کرے۔ حالانکہ دوستی کا اصول یہ ہے کہ کبھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا نے بھی بتلایا ہے ایک جگہ تو فرماتا ہے اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُم (المومن : ۶۱ ) کہ تم مانگو تو میں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منوا تا ہے اور فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ ۔۔۔۔ الخ (البقرۃ:۱۵۶) مگر یہاں آج کل لوگ خدا تعالیٰ کو مثل غلام کے اپنی مرضی کے تابع کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ غوث، قطب، ابدال اور اولیاء وغیرہ جس قدر لوگ ہوئے ہیں ان کو یہ سب مراتب اسی لیے ملے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھتے چلے آئے چونکہ افغانستان کے لوگوں میں یہ مادہ وفا کا زیادہ پایا جاتا ہے اس لیے کیا تعجب ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں (اہل پنجاب) سے آگے بڑھ جاویں اور گوئے سبقت لے جاویں اور یہ پیچھے رہ جاویں کیونکہ وہ لوگ اپنے عہد کے اس قدر پابند ہیں کہ جان تک کی پروا نہیں کرتے نہ مال کی نہ بیوی کی نہ بچے کی جس کا نمونہ ابھی مولوی عبداللطیف صاحب نے دکھا دیا ہے۔ اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر پر تا ثیر جو تاخیر سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض ۲۶ دسمبر ۱۹۱۳ کو بعد نماز ظم مجد تھلی میں آپ نے ظہر اقصیٰ ل البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۵