ملفوظات (جلد 5) — Page 352
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۲ جلد پنجم ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء یہ ایک معجزہ ہے اور بڑی خوبی کا معجزہ ہے بشرطیکہ انصاف سے اس پر نظر کی جاوے ایک معجزہ کہ آج سے ۲۳ یا ۲۴ برس پیشتر کی کتاب براہین احمد یہ تصنیف شدہ ہے اور اس کی جلدیں اسی وقت کی ہر ایک مذہب اور ملت کے پاس موجود ہیں یورپ بھی بھیجی گئی امریکہ میں بھی بھیجی گئی لنڈن میں اس کی کاپی موجود ہے اس میں بڑی وضاحت سے یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک زمانہ آنے والا (ہے) کہ لوگ فوج در فوج تمہارے ساتھ ہوں گے ) حالانکہ جب یہ کلمات لکھے اور شائع کئے گئے تھے اس وقت فرد واحد بھی میرے ساتھ نہ تھا۔ اس وقت خدا نے ایک دعا سکھلائی جو کہ بطور گواہ اس میں لکھی ہوئی ہے رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (الا نبياء :٩٠) خدا تعالیٰ کا اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ تو اکیلا ہے اور پھر تاکید کی کہ تو مخلوق کی ملاقات سے تھکنا مت اور چیں بجبیں نہ ہونا تو اب غور کرنے کی جاہے کہ کیا یہ کسی انسان کا اقرار ہو سکتا ہے اور پھر ایک زبان میں نہیں بلکہ چار زبانوں میں یہ الہام فوج در فوج لوگوں کے ساتھ ہونے کا ہے انگریزی، اردو، فارسی ، عربی میں ۔ بڑے بڑے گواہ اگر چہ ہمارے مخالف ہیں ، موجود ہیں محمد حسین بھی زندہ ہے یہاں کے لوگ بھی جانتے ہیں کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ اس وقت کون کون ہمارے ساتھ تھا بلکہ وہ ایک گم زمانہ تھا کوئی مجھے نہ جانتا تھا اب دیکھو کہ وہ بات کیسی پوری ہوئی ہے حالانکہ ہر فرقہ اور ملت کے لوگوں نے ناخنوں تک مخالفت میں زور لگایا اور ہماری ترقی اور کامیابی کو روکنا چاہا لیکن ان کی کوئی پیش نہ گئی اور اس مخالفت کا ذکر بھی اسی کتاب براہین میں موجود ہے اب بتلاویں کہ کیا یہ معجزہ کا کہ ہے کہ نہیں؟ ہم ان سے نظیر طلب کرتے ہیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک وہ کسی ایسے مفتری کی خبر دیویں کہ اس نے افتر اعلی اللہ کیا ہو اور اس پر مصر رہ کر ۲۴ یا ۲۵ سال کا زمانہ پایا ہو۔ یہ ایک بڑا نشان اور معجزہ ہے اسے عقلمندوں اور اہل الرائے کو دکھلاؤ اور ان کے سامنے پیش کرو کہ وہ اس کی نظیر پیش کریں کہ اس طرح کی پیشگوئی ہو اور باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پوری ہو جاوے ایک