ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 353

ملفوظات حضرت مسیح موعود طالب حق کے لیے یہ معجزہ کافی ہے۔ ۲۵ / دسمبر ۱۹۰۳ء ۳۵۳ جلد پنجم شام کے وقت بہت سے احباب بیرون جات سے آئے ہوئے تھے آپ نے اکرام ضیف میں نجم الدین صاحب بات مان کر ان کو بلا کر تاکید فرمایا کہ مهتم رخان دیکھو ر بہت بہت ۔ سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے سے بعض بع کو تم شناخت کرتے تے ہو ہو اور اور بعض بع کو نہیں اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ سردی کا موسم ہے۔ چاء پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔ تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔ دینی علوم کی تحصیل کے لئے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جب تک خدا کی طرف سے روشنی نہ ہو تب تک انسان کو یقین نہیں ملتا۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوگا دینی اور دنیاوی علوم میں یہ فرق ہے کہ دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لیے تقوی طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں، لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے ان کی تحصیل کے لیے تقوی اور طہارت کی ضرورت ہے جیسے کہ خدا تعالی فرماتا ہے لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔ تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا کی مرضی پر چلے جو وہ چاہے وہ ل البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۲، ۱۳