ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 351

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد پنجم ۳۵۱ ۲۳ / دسمبر ۱۹۰۳ء فرمایا کہ عبد اللطیف صاحب ایک اسوہ چھوڑ گئے ہیں جس کی اسوۂ عبداللطیف کا اتباع اتباع جماعت کو چاہیے۔ ایک انگریز کا ذکر تھا جو کہ اپنی عقیدت حضرت اقدس کے ساتھ اظہار کرتا تھا اور صحبت کی اہمیت کہتا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ کشمیر میں ایک بڑا ہوٹل بناؤں اور وہاں ہر ملک و دیار کے لوگ جو سیر و سیاحت کے لیے آتے ہیں ان کو تبلیغ کروں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں اس سے دنیا داری کی بو آتی ہے۔ اگر اسے سچا اخلاص خدا کے ساتھ ہے اور اس کی غرض تحصیل دینی ہے تو اول یہاں آکر رہے۔ سنت اللہ کے آگے عقل کی بھی کچھ پیش نہیں چلتی ۔ عقل تو یہی چاہتی تھی کہ فی الفور ان باتوں کو مان لیا جاوے جو ہم نے پیش کی ہیں مگر سنت اللہ نہ چاہتی تھی۔ کسی فرقہ میں شامل ہونے کے لیے سچا جوش اسی وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اول کامل وجوہات دل میں جانشین ہوں۔ اس کے بعد پھر وہ شخص ہر ایک بات کو قبول کر لیتا ہے۔ صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور بڑے بڑے نقصان برداشت کئے ۔ اُن کو اس بات کا علم تھا کہ صحبت سے جو بات حاصل ہونی ہے وہ اور طرح ہرگز حاصل نہ ہو گی ۔ حسنِ ظن بھی اگر چہ عمدہ شے ہے۔ مگر افراط تک اسے پہنچانا غلطی ہے ہمارے حصہ کا جو یورپین ہو گا ہم خودا سے پہچان لیں گے کہ یہ ہے۔ عجائبات قدرت دکھلانے کے لیے ضروری ہے کہ مخالفت بھی ہو اور روکنے والے بھی ہوں کیونکہ بغیر اس کے خدا کی قدرت کے ہاتھ کا پتا کیسے لگ سکتا ہے۔ لے البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۲