ملفوظات (جلد 5) — Page 27
ملفوظات حضرت مسیح موعود بین فرق نظر آتا جاتا ہے۔ ۲۷ جلد پنجم ایک اکیلے آدمی کا کام ہر گز نہیں کہ کسر صلیب کر سکے مگر ہاں جب خدا کا ارادہ اس کے ساتھ ہو تو ہر ملائک اس کی امداد میں کام کرتے ہیں۔ جب مامور، مامور ہو کر آتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور نزول مامور مور دلوں میں اس کی طرح نیک اور پاک خیالات کو پیدا کرتے ہیں (جیسے اس سے برے خیالات پیدا کیا کرتے ہیں ) اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرما یا انا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ الآية - ( القدر : ۲، ۳) خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میں ملائک نازل ہوں ۔ کیا یہ کام بغیر امداد الہی کہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ایک شخص خود بخود اٹھے اور کسر صلیب کر ڈالے نہیں ۔ ہاں اگر خدا اسے اُٹھاوے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور توس یہ کسر صلیب اعزاز ا اور اکراماً مسیح موعود کی طرف منسوب کی جاتی ہے ورنہ کرتا تو سب کچھ خدا ہے یہ باتیں عین وقت پر واقع ہوئی ہیں۔ قرآن سے یہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ یہی یہی ہے جس کا نام خدا نے رکھا ہے ستَّةِ أَيَّامٍ ۔ چھٹے دن کے آخری حصہ میں آدم کا پیدا ہونا ضروری تھا براہین میں اسی کی طرف اشارہ ہے اردتُ أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ ۔ پھر فرما یا إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج: ۴۸) آج سے پہلے جو ہزار برس گذرا ہے وہ باعتبار بداخلاقیوں اور بداعمالیوں کے تاریکی کا زمانہ تھا کیونکہ وہ فسق و فجور کا زمانہ تھا اسی لیے آنحضرت نے خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي کہہ کر تین سو برس کو مستثنیٰ کر دیا ہے باقی ایک ہزار ہی رہ جاتا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح ہر پہلی کل کتابوں سے بھی مطابقت ہو جاتی ہے اور وہ بات بھی پوری ہوتی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھلا رہے گا یہ بات بھی کیسی پوری ہوتی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہمارے مسیح کو دوبارہ آنا چاہیے۔ یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہمارے کو آناچاہیے۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی مذہب اس سے انکار کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ ایک علمی نشان ہے جس سے کوئی گریز نہیں ہو سکتا۔