ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 321

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۱ جلد پنجم مغلوب کر لیتا ہے اور اس مرحلہ سے اُوپر چڑھنے پر وہ ڑھنے پر وہ ناپاک روحوں کی بری تحریکات کے نتائج بد سے بالکل محفوظ ہو کر امن الہی میں آجاتا ہے اس حالت کامیابی وظفر مندی و فائز المرامی کا نام مطمئنہ ہے۔ اس وقت وہ ذات باری تعالیٰ سے آرام یافتہ ہوتا ہے اور اسی منزل پر پہنچ کر سالک کا سلوک ختم ہو جاتا ہے۔ تمام تکلفات اٹھ جاتے ہیں اور بلحاظ مدارج روحانیت کے یہی جدوجہد کی انتہا اور اس کا مقصود ذاتی ہوتا ہے اس گوہر مقصود کے حصول پر وہ پورا کامیاب و فائز المرام ہو جاتا ہے۔ ہماری بعثت کی علت غائی بھی تو یہی ہے کہ رستہ منزل جاناں کے بھولے بھٹکوں ، دل کے اندھوں ، جذام ضلالت کے مبتلاؤں ، ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے کور باطنوں کو صراط مستقیم پر چلا کر وصال ذات ذوالجلال کا شیریں جام پلا یا جاوے اور عرفانِ الہی کے اس نقطہ انتہائی تک ان کو پہنچایا جاوے تا کہ ان کو حیات ابدی و راحت دائمی نصیب ہو اور جوارِ رحمت ایزدی میں جگہ لے کر مست و سرشار رہیں۔ ہماری معیت اور صحابت کی پاک تاثیرات کے ثمرات حسنہ بالکل صاف ہیں۔ ہاں ان کے ادراک کے لئے فہم رسا چاہیے ان کے حصول کے لیے رشد و صفا چاہیے ساتھ ہی استقامت کے لیے انتقا چاہیے ورنہ ہماری جانب سے تو چار دانگ عالم کے کانوں میں عرصہ سے کھول کھول کر منادی ہو رہی ہے کہ بیآمدم که ره صدق را درخشانم بدلستان برم آنرا که پارسا باشد کسیکه سایه بال ہماش سود نداد ببایدش که دو روزی بظل ما باشد گلے کہ روئے خزان را گہے نخواهد دید بباغ ماست اگر قسمتت رسا باشد ہم نے تو اس مائدہ الہی کو ہر کس و ناکس کے آگے رکھنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر آگے ان کی اپنی قسمت ! وَ مَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلغ “ اس سے تھوڑا زمانہ پہلے بڑے بڑے علماء لکھ گئے تھے کہ مہدی موعودو مسیح موعود کی مخالفت مسیح مسعودکی آمد کا زمانہ بالکل قریب ہے بلکہ بعض نے اس کی تائید میں اپنے اپنے مکاشفات بھی لکھے تھے جب اس نعمت کا وقت آیا تو تمام یہودی سیرتوں نے اس کے قبول کرنے سے اعراض کر دیا ہے اور صرف انکار پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ تکذیب پر ایسے تلے ہوئے ہیں