ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 320

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۰ جلد پنجم ہے اور انشراح صدر کے بعد تمام بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس لیے کہ ان کو ہر که در ایزدی یافت باز بر در دیگر نیافت پر حق الیقین ہو جاتا ہے اور اس کی پر ثمر تاثیرات ان کے لوح قلب پر منقش ہو جاتی ہیں اور ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر گئی ہوتی ہیں اور بوجہ استیلائے محبت و تعشق الہی و شہود و عظمت و جلال ذات کبریائی ان کے قلب سلیم کا یہی ورد ہو جاتا ہے۔ ه نه از چینم حکایت کن نه از روم که دارم دلستانی اندرین بوم چو روئے خوب او آید بیادم فراموشم شود موجود و معدوم آپ اپنے سارے جسم و جان روح ورواں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہو جاویں۔ پھر خدا تعالیٰ تعالیٰ خود بخود تم سب کا حافظ و ناصر معین و کارساز ہو جاوے گا۔ چاہیے کہ انسان کے تمام قومی آنکھ، کان، دل ، دماغ ، دست و پا جملہ متمسک باللہ ہو جاویں۔ ان میں کسی قسم کا اختلاف نہ رہے اسی میں تمام کامیابیاں و نصرتیں ہیں یہی اصل مراقبہ ہے اسی سے حرارت قلبی و روحانیت پیدا ہوتی ہے اور اسی کی بدولت ایمان کامل نصیب ہوتا ہے۔ سب سے اول تو انسان کو اپنا مرض معلوم کرنا چاہیے جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو علاج کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطمینان نہ پانا یہی خطرناک مرض ہے یہ وہ حالت ہے جبکہ انسان نفس امارہ کے زیر حکم چل رہا ہوتا ہے۔ اس وقت صرف محرکات بدی یعنی شیطان ہی کی اس پر حکومت ہوتی ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ سے دور افتادہ ہلاک ہونے والی نا پاک روحوں کا اس پر اثر ہوتا ہے۔ اس سے ذرا او پر انسان ترقی کرتا ہے تو اس وقت اس کا اپنے نفس کے ساتھ ایک جہاد شروع ہو جاتا ہے اس کی ایسی حالت کا نام لوامہ ہے اس وقت اگر چہ محرکات بدی سے اس کو پوری مخلصی نہیں ہوتی مگر محرکات نیکی یعنی ملائکہ کی پاک تحریکات کی تاثیریں بھی اس پر موثر ہونے لگ جاتی ہیں ان نیک تحریکات کی قوت و طاقت سے نفس امارہ سے اس کی ایک قسم کی گشتی ڈٹ جاتی ہے اور ان کی مدد سے تحریکات بدی پر غلبہ پاتے پاتے زینہ ترقی پر چڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر فضل ایز دی شامل حال ہو تو بتدریج ترقی کرتا جاتا ہے۔ آخر کار اس نفس لوامہ کی گشتی جیت لینے پر تمام تحریکات بدی کو