ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 322

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۲ جلد پنجم کہ جس کا کوئی حد و حساب نہیں ۔ مخالفت کا کوئی پہلو چھوڑ نہیں رکھا۔ ہر دجالیت و یہودیت کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ہر وقت فساد و شرارت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ کون سا ایز او تکلیف دہی کا راہ ہے جس پر وہ نہیں چلے ۔ ہماری تخریب و استیصال کے لیے کون سا میدان تدبیر ہے جو ان کی اسپان مخالفت کی دوڑ دھوپ سے بچ رہا ہے۔ استہزاء وتضحیک کا کون سا پہلو باقی چھوڑا گیا ہے۔ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (لیس: ۳۱) مگر ان کی یہ فتنہ پردازیاں وگر بہ مکاریاں کچھ بھی عنداللہ وقعت نہیں رکھتیں چہ جائیکہ ان کو کبھی کامیابی کا منہ دیکھنا بھی نصیب ہو۔ چراغی را که ایزد بر فروزد ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد سچ پوچھو تو ان کی یہ مخالفتیں ہماری مزرعہ کامیابی کے لئے کھاد کا کام دے رہی ہیں کیونکہ اگر مخالفوں سے میدان صاف ہو جاوے تو اس میدان کے مردانِ کارزار کے جو ہر کس طرح ظاہر ہوں اور انعامات الہی کی غنیمت سے ان کو کس طرح حصہ نصیب ہو اور اگر اعداء کی مخالفت کا بحر مواج پایاب ہو جاوے تو اس کے غواصوں کی کیا قدر ہو اور وہ بحر معانی کے بے بہا گوہر کو کس طرح حاصل کر سکیں۔ مادر قال ه ه گر نبودی در مقابل روئے مکروہ و سیاہ کس چه دانستے جمال شاہد گلفام را گر نیفتادی بخصم کار در جنگ و نبرد کے شدی جو ہر عیاں شمشیر خوں آشام را اس مخالفت کا کوئی ایسا ہی سر معلوم ہوتا ہے والا ان کی مخالفت کے ارادے عند اللہ کیا قدر رکھتے ہیں۔اس ذات قادر مطلق کا تو صاف حکم ہے إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَلِبُونَ (المائدة: ۵۷) اور اس جنگ و جدال کا آخری انجام بھی بتا دیا ہے کہ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف: ۱۲۹) مگر افسوس کہ با ایں ہمہ کو تاہ اندیش نہیں سمجھتے حالانکہ اس نصرت الہی و تا ئیدا یزدی کا انہیں مشاہدہ و تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے اور ان کی مذلت و خسران و نامرادی کا انجام بھی کوئی پوشیدہ نہیں ہے کیوں نہ ہو۔ ے خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے وہ بنتی ہے ہوا اور ہر جس راہ کو اُڑاتی ہے وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ۔ ہے