ملفوظات (جلد 5) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۷ جلد پنجم کو اول انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔ صوفیوں نے بعض جگہ لکھا ہے کہ اگر مرید کو اپنے مرشد کے بعض مقامات پر بظاہر غلطی نظر آوے تو اسے چاہیے کہ اس کا اظہار نہ کرے اگر اظہار کرے گا تو حبط عمل ہو جاوے گا ( کیونکہ اصل میں وہ غلطی نہیں ہوتی صرف اس کے فہم کا اپنا قصور ہوتا ہے ) اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس طرح سے بیٹھتے تھے جیسے سر پر کوئی پرندہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان سر او پر نہیں اُٹھا سکتا یہ تمام ان کا ادب تھا کہ حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے۔ ہاں اگر باہر سے کوئی نیا آدمی آکر کچھ پوچھتا تو اس ذریعہ سے جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلتا وہ سن لیتے صحابہ بڑے متادب تھے اس لیے کہا ہے کہ الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَب۔ جو شخص ادب کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو پھر شیطان اس پر دخل پاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی نوبت ارتداد کی آجاتی ہے اس ادب کو مد نظر رکھنے کے بعد انسان کو لازم ہے کہ وہ فارغ نشین نہ ہو۔ ہمیشہ تو بہ استغفار کرتا رہے اور جو جو مقامات اسے حاصل ہوتے جاویں ان پر یہی خیال کرے کہ میں ابھی قابل اصلاح ہوں اور یہ سمجھ کر کہ بس میرا تزکیہ نفس ہو گیا وہاں ہی نہ اڑ بیٹھے۔ یا درکھو منافق و ہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر منافق کون ہے کرتا ہے مگروں میں اس کے کفرہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔ اگر چہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔ صحابہ کرام کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رورہے تھے تو ابو بکر نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں ۔ جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جُدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی ۔ ابوبکر نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے پھر دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجرا بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔ انسان کے دل میں قبض