ملفوظات (جلد 5) — Page 306
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۶ جلد پنجم ہے۔ گردن اکڑتی ہے صدور میں کن کن بری باتوں کی خواہش ہوتی ہے۔ نیچے کا طبقہ بھی کچھ کم نہیں ہے فسق و فجور میں جہان اسی کے باعث مبتلا ہے۔ پاؤں بھی بے جا مقامات پر چل کر جاتے ہیں غرض یہ ایک لشکر اور جماعت ہے جسے سنبھال کر رکھنا انسان کا کام ہے اور یہ بڑی بات ہے۔ ایک طرف تو خدا نے کشتی کا حوالہ دیا ہے کہ جو اس میں چڑھے گا وہ نجات پاوے گا اور ایک طرف حکم دیا ہے وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا (ھود : ۳۸) یہاں بھی ظلم کی نسبت ہی فرمایا کہ جو لوگ ظالم ہیں تو ان کی نسبت بات ہی نہ کر۔ خوف الہی اور تقویٰ بڑی برکت والی شے ہے انسان میں اگر عقل نہ ہو مگر یہ باتیں ہوں تو خدا اسے اپنے پاس سے برکت دیتا ہے اور عقل بھی دے دیتا ہے جیسے کہ فرماتا ہے يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: ٣) اس کے یہی معنے ہیں کہ جس تھے کی ضرورت اسے ہو گی اس کے لیے وہ خود راہ پیدا کر دے گا بشرطیکہ انسان متقی ہو، لیکن اگر تقوی نہ ہو گا تو خواہ فلاسفر ہی ہو وہ آخر کا ر تباہ ہوگا۔ دیکھو کہ اسی ہندوستان پنجاب میں کس قدر عالم تھے مگر ان کے دلوں میں اور زبانوں میں تقویٰ نہ رہا۔ محمد حسین کی حالت دیکھو کہ کیسی گندی اور مخش با تیں اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھتا رہا۔ اگر تقویٰ ہوتی تو وہ کب ایسی باتیں لکھ سکتا تھا۔ اس کے بعد چند احباب نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ایک طویل تقریر فرمائی جو کہ ذیل میں درج ہے۔ یہ بیعت جو ہے اس کے معنے اصل حقیقت بیعت اور اس سے فیض پانے کی راہ میں اپنے تئیں بیچ دیتا ہے اس کی برکات اور تاثیرات اسی شرط سے وابستہ ہیں جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہے کہ گویا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اس کا کچھ پتا نہیں کہ اب وہ کیا ہوگا لیکن اگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشوونما کی قوت موجود ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزا ر دانہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ